کلام بشر
معنی
١ - انسان کا قول، وحی کے بالمقابل۔ "اگر تم کو اس کلام کے کلام بشر ہونے کا خیال ہے تو تم بھی تو ایک سورت ایسی فصیح و بلیغ تین آیت کی تعداد بنا کر دیکھو۔" ( ١٩٣٢ء، ترجمہ قرآن، تفسیر مولانا شبیر احمد عثمانی، ٧ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'کلام' بطور مضاف کے ساتھ کسرہ اضافت لگاکر عربی اسم 'بشر' بطور مضاف الیہ ملنے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٩٣٢ء کو "ترجمہ قرآن تفسیر مولانا شبیر احمد عثمانی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - انسان کا قول، وحی کے بالمقابل۔ "اگر تم کو اس کلام کے کلام بشر ہونے کا خیال ہے تو تم بھی تو ایک سورت ایسی فصیح و بلیغ تین آیت کی تعداد بنا کر دیکھو۔" ( ١٩٣٢ء، ترجمہ قرآن، تفسیر مولانا شبیر احمد عثمانی، ٧ )